اس سمت جو گل رو مرا آ جائے کہیں آج
اس سمت جو گل رو مرا آ جائے کہیں آج
رشکِ چمنستان ہو یہ ویرانہ زمیں آج
پھر تیز ہوئی تیغ ستم گار کہیں آج
ہلتا ہے فلک اور لرزتی ہے زمیں آج
اللہ رے رتبہ تری عالی نسبی کا
ہو تیرا مقابل کوئی ایسا ہے نہیں آج
سب دیو پری اس کی غلامی کو ہیں حاضر
رکھتا ہے وہ خاتم میں سلیماں کا نگیں آج
غارت گری دل پہ کمر بستہ ہے پھر وہ
پھر ظلم پہ آمادہ ہے وہ دشمن دیں آج
ہے دل میں محبت نہ بتوں کی نہ خدا کی
ہر طور سے فارغ ہوں نہ دنیا ہے نہ دیں آج
دل پر ہے کیا نقش جو تصویر پری کو
خاتم پہ سلیماں کے جڑا ہم نے نگیں آج
جب آہی چکے جانے میں بےکار ہے عجلت
کیا اس میں بگڑتا ہے جو رہ جاؤ یہیں آج
جوہرؔ یہ وسیلہ ہے بڑا قرب خدا کا
ہے نام محمد کا مرا نقش نگیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.