جو دل کو میسر ہے وہ مہماں کے لیے ہے
جو دل کو میسر ہے وہ مہماں کے لیے ہے
اک بوند لہو کی تیر پیکاں کے لیے ہے
انکار نہیں شوق سے آتا ہے تو آئے
کچھ دل میں جگہ وصل کے ارماں کے لیے ہے
اک دل تھا اسے کھو ہی چکے راہ طلب میں
یہ جان جو باقی ہے وہ جاناں کے لیے ہے
ممکن ہی نہیں دست و گریباں ہو عدو سے
دامن تو ترا میرے گریباں کے لیے ہے
- کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 78)
- Author : عرفان عباسی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.