Font by Mehr Nastaliq Web

جو دل کو میسر ہے وہ مہماں کے لیے ہے

کاظم علی باغ

جو دل کو میسر ہے وہ مہماں کے لیے ہے

کاظم علی باغ

MORE BYکاظم علی باغ

    جو دل کو میسر ہے وہ مہماں کے لیے ہے

    اک بوند لہو کی تیر پیکاں کے لیے ہے

    انکار نہیں شوق سے آتا ہے تو آئے

    کچھ دل میں جگہ وصل کے ارماں کے لیے ہے

    اک دل تھا اسے کھو ہی چکے راہ طلب میں

    یہ جان جو باقی ہے وہ جاناں کے لیے ہے

    ممکن ہی نہیں دست و گریباں ہو عدو سے

    دامن تو ترا میرے گریباں کے لیے ہے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 78)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے