تم نقاب الٹو بھی اپنے عارض پُر نور سے
تم نقاب الٹو بھی اپنے عارض پُر نور سے
لن ترانی کی صدا کیا دے رہے ہو دور سے
دیکھ لیں گے جلوۂ حق ان بتوں کے نور سے
چھپکے جائےگی کہاں آخر تجلی طور سے
آج پائے لنگ سے ٹھوکر لگاتے ہیں گدا
میں عیاں آثار غربت تربت تیمور سے
پھر کے کیوں کر آئے موسیٰ ان کے جادو دیکھ کر
جان دیتے ہم تو سر ٹکرا کے سنگ طور سے
چھپ چکی سو داستانوں میں ہماری سرگزشت
کوئی ناواقف نہیں اس قصہ مشہور سے
قرب پیدا کر اگر چاہے کمال معرفت
صاف دکھلائی نہیں دیتی کوئی شے دور سے
لوٹ آتی ہے صدا کوئی اگر دے زیر کوہ
اے کلیم آواز تیری آئی ہوگی طور سے
داغ سوزاں سے جلایا اگ اس ضد کو لگے
شمع کی ترکیب ہے اے سوز غم کافور سے
اے تپ غم دھوپ کا ہمسایہ کرتے ہیں گماں
میرے سایہ میں یہ گرمی ہے تنِ محرور سے
خوف کرتا ہوں خدا کے سامنے جاتے ہوئے
مجھ کو پالا پڑ چکا ہے اک بت مغرور سے
ہاے مرغ نیم بسمل کا تڑپنا د یکھئے
حرکتیں بےساختہ ہوتی ہیں یوں مجبور سے
نشہ کے عالم میں کیفیؔ بھی انا الحق بول اٹھا
حق تو یہ ہے مست وحدت تھا مئے منصور سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.