زاہد کو خوف کیوں نہ ہو روز شمار کا
زاہد کو خوف کیوں نہ ہو روز شمار کا
قائل نہیں ہے رحمت پروردگار کا
جو چاہتے ہیں ہم وہ مقدر ہی میں نہیں
شکوہ ہے یار کا نہ گلہ روزگار کا
اس سے تو اور بڑھ گئیں کچھ بے قراریاں
وہ پوچھتے نہ حال دلِ بے قرار کا
ہیں میکشوں کے ساتھ ہی زاہد بھی آج مست
اللہ رے فیض عام نسیم بہار کا
رحم آگیا انہیں بھی مرا حال دیکھ کر
ممنون کیوں نہ ہوں ستم روزگار کا
شاہد پرست رند ہو کوثرؔ سا شیخ وقت
کیا اعتبار اب کسی پرہیزگار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.