Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

زاہد کو خوف کیوں نہ ہو روز شمار کا

کوثر سندیلوی

زاہد کو خوف کیوں نہ ہو روز شمار کا

کوثر سندیلوی

MORE BYکوثر سندیلوی

    زاہد کو خوف کیوں نہ ہو روز شمار کا

    قائل نہیں ہے رحمت پروردگار کا

    جو چاہتے ہیں ہم وہ مقدر ہی میں نہیں

    شکوہ ہے یار کا نہ گلہ روزگار کا

    اس سے تو اور بڑھ گئیں کچھ بے قراریاں

    وہ پوچھتے نہ حال دلِ بے قرار کا

    ہیں میکشوں کے ساتھ ہی زاہد بھی آج مست

    اللہ رے فیض عام نسیم بہار کا

    رحم آگیا انہیں بھی مرا حال دیکھ کر

    ممنون کیوں نہ ہوں ستم روزگار کا

    شاہد پرست رند ہو کوثرؔ سا شیخ وقت

    کیا اعتبار اب کسی پرہیزگار کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے