Font by Mehr Nastaliq Web

اہلِ جہاں حریف ہمارے ہوئے تو کیا

خالد ندیم بدایونی

اہلِ جہاں حریف ہمارے ہوئے تو کیا

خالد ندیم بدایونی

MORE BYخالد ندیم بدایونی

    اہلِ جہاں حریف ہمارے ہوئے تو کیا

    ہم بھی ہیں آج وقت کے مارے ہوئے تو کیا

    محراب و در کو پھر بھی اجالے نہیں نصیب

    آنگن میں میرے چاند ستارے ہوئے تو کیا

    دل جب ہمارا خانۂ ویران ہوگیا

    اس وقت پورے خواب ہمارے ہوئے تو کیا

    اب دید کی طلب ہے نہ ملنے کی آرزو

    ان کی طرف سے لاکھ اشارے ہوئے تو کیا

    پھولوں میں دل کشی ہے نہ کلیوں پہ ہے نکھار

    رنگین گلستاں کے نظارے ہوئے تو کیا

    تابندگی نگاہ کی جب مر کے رہ گئی

    اب آئیں وہ نقاب اتارے ہوئے تو کیا

    ہارا نہیں ہوں اب بھی محبت کی جنگ میں

    راہ وفا میں مجھ کو خسارے ہوئے تو کیا

    ساحل پہ لے کے جائے گا خالدؔ تمہارا عزم

    دریا کے دور تم سے کنارے ہوئے تو کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے