Sufinama

ظاہر چہرے کو اپنے جو چھپا رکھا ہے

خواجہ علی حسنین

ظاہر چہرے کو اپنے جو چھپا رکھا ہے

خواجہ علی حسنین

MORE BYخواجہ علی حسنین

    ظاہر چہرے کو اپنے جو چھپا رکھا ہے

    اس نے عالم میں عجب حشر مچا رکھا ہے

    کس قیامت کا کسی جذبۂ دل کا ہے اثر

    پایۂ عرش بریں جس نے ہلا رکھا ہے

    سرخروئی جو ہے منظور تو مانند حنا

    دل کو اُس شوخ کے قدموں سے لگا رکھا ہے

    درد نے ایک ترے سارے مرض کو کھویا

    یاد نے ایک تری سب کو بھلا رکھا ہے

    لایئے لایئے دل میرا عنایت کیجے

    کھولئے کھولئے مٹھی میں یہ کیا رکھا ہے

    اس شہ حسن کی مجھ پر بھی نوازش ہوگی

    عشق کے در پہ جو سر اپنا ضیاؔ رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے