Font by Mehr Nastaliq Web

کیا تھا جرم وفا لذت سزا کے لیے

داغ دہلوی

کیا تھا جرم وفا لذت سزا کے لیے

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    کیا تھا جرم وفا لذت سزا کے لیے

    ستم کے لطف اٹھائے مزے جفا کے لیے

    خدا کرے نہ کسی کا امیدوار وصال

    دعائیں مانگتے ہیں ترک مدعا کے لیے

    بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ

    وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

    زباں جلائی سیے ہونٹ قطع ہاتھ کیے

    یہ بندوبست ہوئے ہیں مری دعا کے لیے

    مرے مزار کو تو وہ بنایا تیروں سے

    بہانہ یہ ہے کہ روزن کئے ہوا کے لیے

    ملے جو حشر میں لے لوں زبان ناصح کی

    عجیب چیز ہے یہ طول مدعا کے لیے

    شریر آنکھ نگہ بے قرار چتون شوخ

    تم اپنی شکل تو پیدا کرو حیا کے لیے

    نیا ستم ہے ستم گر نے قتل پر میرے

    کیا ہے جمع رقیبوں کو مرحبا کے لیے

    ترے کہے سے ہم اے داغؔ چھوڑ دیں گے عشق

    خدا کا واسطہ دیتا ہے کیوں خدا کے لیے

    مأخذ :
    • کتاب : Guldasta-e-Qawwali (Pg. 22)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے