Font by Mehr Nastaliq Web

کیا ستم ہے جان دی جن کے لیے

باسط بسوانی

کیا ستم ہے جان دی جن کے لیے

باسط بسوانی

MORE BYباسط بسوانی

    کیا ستم ہے جان دی جن کے لیے

    وہ یہ پوچھیں مر مٹے کن کے لیے

    شب کو تھوڑی شیخ نے پی دور میں

    اور تھوڑی لے گئے دن کے لیے

    جائیں گے جانا ہے ہم کو ایک روز

    آئے ہیں دنیا میں دو دن کے لیے

    در دمے دیتا ہے ساقی چھیڑ سے

    شیخ جیسے صاف باطن کے لیے

    تاک میں ان کی ابھی سے برق ہے

    پھرتی ہے بلبل مگر تن کے لیے

    کم نہیں طوفان سے عہد شباب

    ہائے سب زیبا ہے اس سن کے لیے

    خانۂ دل میں ملے وہ جلوہ گر

    در بدر بھٹکا کئے جن کے لیے

    دل کو بھی دھڑکا تھا ہجر یار کا

    ہم بھی روتے تھے اسی دن کے لیے

    وعدۂ دیدار محشر یاد ہے

    اب اٹھا رکھو گے کس دن کے لیے

    یوں تو بالیں پر ہیں باسطؔ سینکڑوں

    وہ نہ آئے جان دی جن کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے