Font by Mehr Nastaliq Web

آئے جو مرے گھر وہ گل اندام کہیں آج

لطیف حسین

آئے جو مرے گھر وہ گل اندام کہیں آج

لطیف حسین

MORE BYلطیف حسین

    آئے جو مرے گھر وہ گل اندام کہیں آج

    ہو غیرت گلزارِ ارم بیت حزیں آج

    جس دن خفا ہو کے گیا ہے وہ حسیں آج

    جاں اپنی کہیں قالب ہیجاں ہے کہیں آج

    خلقت تھی تماشے کو کھڑی ان کے حزیں آج

    کوٹھے پہ چڑھا اپنے جو وہ ماہ جبیں آج

    اس طرح مجھے دیکھ کے وہ بستر غم پر

    روتے رہے بیٹھے مرے بالیں کے قریں آج

    ہم جنسوں کے ساتھ آئے اگر یاں وہ پریرو

    پریوں کا اکھاڑا بنے یہ بیت حزیں آج

    اقرار تھا کل آج کا اور آج ہے انکار

    بہکایا ہے اغیار نے پھر ان کو کہیں آج

    باقی نہ رہے تیرگئ بخت ہماری

    آجائے میرے گھر میں جو وہ ماہ جبیں آج

    دیتا ہے گلے میں مرے پھانسے یہ گریباں

    کیا دست جنوں موقع امداد نہیں آج

    دامن کبھی چھوڑیں گے لطیفؔ اس کا نہیں ہم

    مل جائے مرا یار اگر مجھ کو کہیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے