آئے جو مرے گھر وہ گل اندام کہیں آج
آئے جو مرے گھر وہ گل اندام کہیں آج
ہو غیرت گلزارِ ارم بیت حزیں آج
جس دن خفا ہو کے گیا ہے وہ حسیں آج
جاں اپنی کہیں قالب ہیجاں ہے کہیں آج
خلقت تھی تماشے کو کھڑی ان کے حزیں آج
کوٹھے پہ چڑھا اپنے جو وہ ماہ جبیں آج
اس طرح مجھے دیکھ کے وہ بستر غم پر
روتے رہے بیٹھے مرے بالیں کے قریں آج
ہم جنسوں کے ساتھ آئے اگر یاں وہ پریرو
پریوں کا اکھاڑا بنے یہ بیت حزیں آج
اقرار تھا کل آج کا اور آج ہے انکار
بہکایا ہے اغیار نے پھر ان کو کہیں آج
باقی نہ رہے تیرگئ بخت ہماری
آجائے میرے گھر میں جو وہ ماہ جبیں آج
دیتا ہے گلے میں مرے پھانسے یہ گریباں
کیا دست جنوں موقع امداد نہیں آج
دامن کبھی چھوڑیں گے لطیفؔ اس کا نہیں ہم
مل جائے مرا یار اگر مجھ کو کہیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.