Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

پوچھو نہ کچھ ثبوتِ خرد میں نے کیا دیا

علی منظور

پوچھو نہ کچھ ثبوتِ خرد میں نے کیا دیا

علی منظور

MORE BYعلی منظور

    پوچھو نہ کچھ ثبوتِ خرد میں نے کیا دیا

    اک مستِ ناز کو دلِ بے مدعا دیا

    اب کیا گلہ کروں عدمِ التفات کا

    میری نگاہ یاس نے سب کچھ جتا دیا

    بڑھتے ہوئے شعور میں گم ہو رہا ہوں میں

    احساسِ حسن آپ نے اتنا بڑھا دیا

    دیکھی نہ جب تجلیٔ تکرار آشنا

    بے رنگیوں کا رنگ خودی نے جما دیا

    ہے شاد بے دلی پہ تہی دستِ آرزو

    اچھا کیا نشانِ تمنا مٹا دیا

    مایوسِ جلوہ ہائے طرب ہوں خبر نہیں

    دل خود ہی بجھ گیا کہ کسی نے بجھا دیا

    کیا لطفِ اضطراب دکھاؤں کہ آپ نے

    احساسِ درد درد سے پہلے مٹا دیا

    انجام دید و عید اب اے ہم نشیں نہ پوچھ

    وہ مجھ کو یاد ہے مجھے جس نے بھلا دیا

    معلوم تھا تجھے کہ وہ درد آشنا نہیں

    منظورؔ دل کا درد انہیں بھی سنا دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے