جسے غم ہے سارے جہان کا
کبھی غم سے ہو نہ سکا بری
وہی خوش رہا جو گزر گیا
نظر اس پہ ڈال کے سرسری
مری اعتدال نما نظر
نہ تو سرسری نہ دقیق تر
جو حدودِ دید ہیں مختصر
ہے الم ربا یہ ’’سبک پری‘‘
مرا قال شاہدِ حال ہے
مجھے اپنے گھر کا خیال ہے
مجھے فکر اہلِ و عیال ہے
مجھے یاد اپنی برادری
میں برادری سے ہوں شادماں
ہے برادری مری قدر داں
کوئی اختلاف نہیں یہاں
نہ تو باطنی نہ تو ظاہری
وہی کام ہیں وہی کاج ہیں
وہی خاص رسم و رواج ہیں
وہی ایک ڈھب کے مزاج ہیں
وہی مشفقانہ برابری
کوئی نیچ اونچ کی سرزنش
نہ عقیدتوں میں ہے چپقلش
اسی وجہ سے یہ دلی کشش
نہیں رازدانِ گراں سری
کبھی اس عزیز کے گھر گیا
کبھی اس عزیز کو دی صدا
کبھی ابنِ عم کو بلا لیا
جو ہے کذب و صدق کا جوہری
مرے سب عزیز ہیں دیدہ ور
نہیں کم کسی کی نگہ مگر
گلِ سرسبد ہے یہ خوش نظر
کہ مسلم اس کی ہے برتری
ادب اس کے علم کا ترجماں
شرف اس کے علم کا راز داں
چلن اس کا رہبرِ گمر ہاں
روش اس کی حجتِ رہبری
اسے روکتی نہیں کوئی شئے
یہ کرے گا منزلیں یوں ہی طے
اسی خندہ رو کی جبیں سے ہے
یہ عروج و اوجِ خوش اختری
نظر اس پہ کس کی نہیں پڑی
کہ نمونہ اس کی ہے زندگی
بخدا قضا و قدر نے کی
بہت اس کی حوصلہ پروری
یہ ہے اس کے خاص اثر کی حد
کوئی اس کی رائے ہوئی نہ رد
کہ برادری کا ہے معتمد
یہ شریف رکن برادری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.