Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جسے غم ہے سارے جہان کا

علی منظور

جسے غم ہے سارے جہان کا

علی منظور

MORE BYعلی منظور

    جسے غم ہے سارے جہان کا

    کبھی غم سے ہو نہ سکا بری

    وہی خوش رہا جو گزر گیا

    نظر اس پہ ڈال کے سرسری

    مری اعتدال نما نظر

    نہ تو سرسری نہ دقیق تر

    جو حدودِ دید ہیں مختصر

    ہے الم ربا یہ ’’سبک پری‘‘

    مرا قال شاہدِ حال ہے

    مجھے اپنے گھر کا خیال ہے

    مجھے فکر اہلِ و عیال ہے

    مجھے یاد اپنی برادری

    میں برادری سے ہوں شادماں

    ہے برادری مری قدر داں

    کوئی اختلاف نہیں یہاں

    نہ تو باطنی نہ تو ظاہری

    وہی کام ہیں وہی کاج ہیں

    وہی خاص رسم و رواج ہیں

    وہی ایک ڈھب کے مزاج ہیں

    وہی مشفقانہ برابری

    کوئی نیچ اونچ کی سرزنش

    نہ عقیدتوں میں ہے چپقلش

    اسی وجہ سے یہ دلی کشش

    نہیں رازدانِ گراں سری

    کبھی اس عزیز کے گھر گیا

    کبھی اس عزیز کو دی صدا

    کبھی ابنِ عم کو بلا لیا

    جو ہے کذب و صدق کا جوہری

    مرے سب عزیز ہیں دیدہ ور

    نہیں کم کسی کی نگہ مگر

    گلِ سرسبد ہے یہ خوش نظر

    کہ مسلم اس کی ہے برتری

    ادب اس کے علم کا ترجماں

    شرف اس کے علم کا راز داں

    چلن اس کا رہبرِ گمر ہاں

    روش اس کی حجتِ رہبری

    اسے روکتی نہیں کوئی شئے

    یہ کرے گا منزلیں یوں ہی طے

    اسی خندہ رو کی جبیں سے ہے

    یہ عروج و اوجِ خوش اختری

    نظر اس پہ کس کی نہیں پڑی

    کہ نمونہ اس کی ہے زندگی

    بخدا قضا و قدر نے کی

    بہت اس کی حوصلہ پروری

    یہ ہے اس کے خاص اثر کی حد

    کوئی اس کی رائے ہوئی نہ رد

    کہ برادری کا ہے معتمد

    یہ شریف رکن برادری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے