ہو جائے بیڑا پار ہمارا خدا کرے
دلچسپ معلومات
یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔
ہو جائے بیڑا پار ہمارا خدا کرے
رحمت ہمارے حال پہ مشکل کشا کرے
حیدر سے بڑھ کے کون سخی ہے جہان میں
خیرات جو پسر کو براہ خدا کرے
میں بھی زلیخا وار ہوں دیوانہ رسول
صورت ہماری حشر میں یوسف تکا کرے
لایا کرے جو بوئے تن مصطفیٰ صبا
گھر میں ہمارے روز قرابہ لنڈھا کرے
چین دے اس کے دل کو طبیعت میں ہو قرار
مقصودؔ جب مدینے میں رہنے کی جا کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.