مرا شد جامۂ جاں از غمت چاک
بیا اے آرزوئے جان غم ناک
تیرے غم میں میری جان کا لباس پھٹ گیا
دکھی جان کی آرزو اب تو آ جا
بہ یک رفتار بردی صد دل از راہ
تعالیٰ اللہ عجب چستی و چالاک
ایک ہی انداز سے تُو نے سیکڑوں دلوں کو اپنا دیوانہ بنا ڈالا
اللہ نے تجھے کتنا چست و چالاک بنایا ہے
نہانی ہر شب آیم من بہ کویت
گریبان دریدہ دامن چاک
میں تیری گلی میں چوری چھپے ہر رات اپنا گریبان
اور دامن پھاڑے آتا ہوں
گہے از درد ریزم خاک بر سر
گہے از شوق مالم روئے بر خاک
میں کبھی درد سے اپنے سر پر خاک ڈالتا ہوں تو
کبھی انتہائے شوق میں اپنا چہرہ زمین پر رگڑتا ہوں
ز جامیؔ گر کشی سر چیست تدبیر
تو شاخ نازکے او خار و خاشاک
اگر تُو جامیؔ سے منہ پھیرتا ہے تو اس کا کیا علاج ہے
کیونکہ تُو ایک نازک شاخ ہے اور وہ خار و خاشاک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.