Font by Mehr Nastaliq Web

پھر حوصلہ وفا کو ہوا ہے دعا کرے

مستؔ گیاوی

پھر حوصلہ وفا کو ہوا ہے دعا کرے

مستؔ گیاوی

MORE BYمستؔ گیاوی

    پھر حوصلہ وفا کو ہوا ہے دعا کرے

    ظالم جفا سے باز نہ آئے خدا کرے

    مقتول صد نگاہ تمنا ہے دل مرا

    اس کو کہاں ملک کوئی لے مدعا کرے

    صد گو نہ حد حصر سے افزوں ہے شوق دل

    کیا عمر خضر کو کوئی صرفِ دعا کرے

    پھر دیدہ و جگر میں ہیں باہم یہ چشم گیں

    تیر نگاہ یار کہاں دیکھیں جا کرے

    پھر تیغ ناز ڈھونڈھتی ہے سینہ و جگر

    تیرِ نگہ کو دہن ہے کہ پھر دل میں جا کرے

    پھر جیب کو ہوس ہے کہ ہو یوں وہ تار تار

    ممنون بخیہ گر نہ طبیعت ہوا کرے

    ان رزون جوش پر ہے پھر اشک واں کی

    پھر ہے جنوں کو حکم کہ محشر بپا کرے

    پھر عشق چاہتا ہے کہ ترے آستانہ پر

    با منت و نیاز مجھے جبہہ سا کرے

    میرے غبار کو ہے خیالِ عروج پھر

    تا زیر بار منتِ دوشِ صبا کرے

    پھر امتحان جذبہ دل کو چلی ہے یاس

    نا مہربان ہو وہ بتِ کافر خدا کرے

    دستِ جنون نے آج چڑھائی پھر آستین

    پیراہنِ خرد کی حفاظت خدا کرے

    پھر میرے سر پہ کھیل رہی ہے اجل میری

    شمشیر ناز تن سے مرا سر جدا کرے

    کیا پر ہے میکشی کا تہیہ جناب مستؔ

    زاہد سے کہہ دو ابر کی اس دم دعا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے