سودائے زلف یار کا دل مبتلا نہ ہو
سودائے زلف یار کا دل مبتلا نہ ہو
یا رب بلائے جان حزیں یہ بلا نہ ہو
فرقت میں اک تجھی سے بہلتا ہے جی مرا
دل سے تو اے تصور جانان جدا نہ ہو
اٹھا بخار دل سے تو آنسو ٹپک پڑے
سچ ہے کہ منہ نہ برسے گا جب تک گھٹا نہ ہو
دل میں غبار آنے نہ پائے کس طرح
اندھا وہ آئینہ ہے کہ جس میں صفا نہ ہو
عالم تمام تر ہے دل بے قرار کا
سیماب میری خاک سے یا رب بنا نہ ہو
کیا ہجر گل میں نالہ بلبل ہے جاں گسل
اب کوئی نشیب سے جدا نہ ہو
زاہد خدا کے واسطے تو مستؔ کو نہ چھیڑ
ہاتھوں سے اس کے چاک یہ تیری قبا نہ ہو
- کتاب : Farogh-e-Bazm (Pg. 63)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.