کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ
کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ
دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ
پیش نگاہ میرے ہزاروں ہی رنگ تھے
دل نے کیا پسند مگر آپ ہی کا رنگ
یہ ہے فریب چشم کہ یہ دل کا واہمہ
ہر گل میں دیکھتی ہوں گل کاغذی کا رنگ
اس کو بھلائے گرچہ زمانہ گزر گیا
آتا ہے یاد آج بھی مجھ کو اسی کا رنگ
رنگیں ہے جس کے دم سے مری کائنات دل
وہ ہے جمال یار کی تابندگی کا رنگ
آہیں بھرے گا کب کوئی پھولوں کو دیکھ کر
آئے گا کب کسی میں بھلا دلبری کا رنگ
اس میں ہے رنگ تیرے رخ بے مثال کا
سب سے جدا ہو کیوں نہ مری شاعری کا رنگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.