Font by Mehr Nastaliq Web

نالہ کرنا کہ آہ کرنا

خواجہ میر اثر

نالہ کرنا کہ آہ کرنا

خواجہ میر اثر

نالہ کرنا کہ آہ کرنا

دل میں اثرؔ اس کے راہ کرنا

کچھ خوب نہیں یہ تیری باتیں

ہر چند مجھے نباہ کرنا

تیرا وہ جور یہ مرا صبر

انصاف سے ٹک نگاہ کرنا

کیا لطف ہے لے کے دل مکرنا

اور الٹے مجھے گواہ کرنا

رحمت کے حضور بے گناہی

مت شیخ کو رو سیاہ کرنا

جی اب کے بچا خدا خدا کر

پھر اور بتوں کی چاہ کرنا

کیا کہیے اثرؔ تو آپ ٹک دیکھ

یوں حال اپنا تباہ کرنا

مأخذ :
  • کتاب : دیوان اثر مرتبہ: عبدالحق (Pg. 11)
  • Author : میر اثرؔ
  • مطبع : مسلم یونیورسٹی پریس، علی گڑھ (1930)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے