Sufinama

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

خواجہ میر درد

ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

خواجہ میر درد

MORE BYخواجہ میر درد

    ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

    عیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کو

    تجھے اے شمع کیا دیکھیں زمانے کو دکھانا ہے

    ہمیں جوں کاغذ آتش زدہ اور ہی چراغاں کو

    نہ تنہا کچھ یہی اطفال دشمن ہیں دوانوں کے

    بھرے ہے کوہ بھی دیکھا تو یاں پتھروں سے داماں کو

    جھمکتے ہیں ستاروں کی طرح سوراخ ہستی کے

    چھپایا گو کہ جوں خورشید میں داغ نمایاں کو

    نہ واجب ہی کہا جاوے نہ صادق ممتنع اس پر

    کیا تشخیص کچھ ہم نے نہ ہرگز شخص امکاں کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY