Font by Mehr Nastaliq Web

کیا ہو دید جس نے دل کے درپن کی صفائی کا

میر نصیر جالیسری

کیا ہو دید جس نے دل کے درپن کی صفائی کا

میر نصیر جالیسری

MORE BYمیر نصیر جالیسری

    کیا ہو دید جس نے دل کے درپن کی صفائی کا

    نظر آیا ہے حیرت میں اسے جلوہ خدائی کا

    حقیقت اپنی کو سمجھیں جو جاویں بزمِ رنداں میں

    بہت یہ زاہد اب دم مارتے ہیں پارسائی کا

    جو دیکھیں نور تیرے حسن کا اے شاہِ محبوباں

    تو مانگیں بھیک مہر و ماہ لے کاسہ گدائی کا

    جو دل ہو اس طرف تو بت پرستی بھی عبادت ہے

    عبث ہے ورنہ یاں دعویٰ حرم کی جبہ سائی کا

    نصیرؔ ایسا ہی کچھ ہووے گا شاید ہول محشر بھی

    کہ جیسا حال دکھلاتا ہے مجھ کو دن جدائی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے