کیا ہو دید جس نے دل کے درپن کی صفائی کا
کیا ہو دید جس نے دل کے درپن کی صفائی کا
نظر آیا ہے حیرت میں اسے جلوہ خدائی کا
حقیقت اپنی کو سمجھیں جو جاویں بزمِ رنداں میں
بہت یہ زاہد اب دم مارتے ہیں پارسائی کا
جو دیکھیں نور تیرے حسن کا اے شاہِ محبوباں
تو مانگیں بھیک مہر و ماہ لے کاسہ گدائی کا
جو دل ہو اس طرف تو بت پرستی بھی عبادت ہے
عبث ہے ورنہ یاں دعویٰ حرم کی جبہ سائی کا
نصیرؔ ایسا ہی کچھ ہووے گا شاید ہول محشر بھی
کہ جیسا حال دکھلاتا ہے مجھ کو دن جدائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.