اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی جو ظالم نے کیا کی
نہ کچھ پیری چلی باد صبا کی
بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی
وصالِ یار سے دونا ہوا عشق
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
وہ سوتے بے حجابانہ رہے ساتھ
نگاہِ شوق کام اپنا کیا کی
ابھی اس راہ سے گذرا ہے کوئی
کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی
کہا اس بت سے کہ مرتا ہے مومنؔ
کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.