خار سے ہے مجھے بدتر گل خنداں تیرا
خار سے ہے مجھے بدتر گل خنداں تیرا
ہجر میں دیکھوں میں کیا رنگ گلستاں تیرا
طول ہے قصہ بہت گیسوئے پیچاں تیرا
کون سن سکتا ہے مضمون پریشاں تیرا
مجھ پہ آئینہ ہے سب حال مری جاں تیرا
کوئی دم ظاہر و باطن نہیں یکساں تیرا
لطف اٹھا کر کوئی جیتا بھی ہے خواہاں تیرا
وہی بہتر ہے جہاں تک نہ ہو احساں تیرا
خود نہ آئے تھے تو اتنا بھی نہ پوچھوا بھیجا
اب ہے کیا حال مریض غم ہجراں تیرا
میرے ہی دل پہ لگاتا ہے چھری رہ رہ کر
ذکر جب کرتا ہے انسان سے انساں تیرا
جب تری وعدہ خلافی کا نہ تھا مجھ کو یقیں
روز اک عہد تھا اک مجھ سے تھا پیماں تیرا
میں نے جب پوچھا تھا کہتے ہیں تجھی کو قاتل
کس ڈھٹائی سے وہ فرماتے ہیں ہاں ہاں تیرا
جیسی اب رہتی ہیں غصہ کی نگاہیں ہر وقت
ایسا ہی مجھ پہ عتاب آگے تھا جاناں تیرا
ان دنوں کون سے عالم میں ہے اے وحشت دل
شہر میں اب تو مکاں ہے نہ بیاباں تیرا
کیا تھی ان زخموں پہ حاجت یہ نمک پاشی کی
دل ہی میرا کہیں ہوتا جو نمک داں تیرا
دونوں عالم کی جو نعمت سے ہے دل مستغنی
دولت فقر بڑا مجھ پہ ہے احساں تیرا
نالۂ گرم مرا سن کے وہ فرماتے ہیں
ایسا پھکتا ہے مبارکؔ دل سوزاں تیرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.