Font by Mehr Nastaliq Web

خار سے ہے مجھے بدتر گل خنداں تیرا

مبارک حسین مبارک

خار سے ہے مجھے بدتر گل خنداں تیرا

مبارک حسین مبارک

MORE BYمبارک حسین مبارک

    خار سے ہے مجھے بدتر گل خنداں تیرا

    ہجر میں دیکھوں میں کیا رنگ گلستاں تیرا

    طول ہے قصہ بہت گیسوئے پیچاں تیرا

    کون سن سکتا ہے مضمون پریشاں تیرا

    مجھ پہ آئینہ ہے سب حال مری جاں تیرا

    کوئی دم ظاہر و باطن نہیں یکساں تیرا

    لطف اٹھا کر کوئی جیتا بھی ہے خواہاں تیرا

    وہی بہتر ہے جہاں تک نہ ہو احساں تیرا

    خود نہ آئے تھے تو اتنا بھی نہ پوچھوا بھیجا

    اب ہے کیا حال مریض غم ہجراں تیرا

    میرے ہی دل پہ لگاتا ہے چھری رہ رہ کر

    ذکر جب کرتا ہے انسان سے انساں تیرا

    جب تری وعدہ خلافی کا نہ تھا مجھ کو یقیں

    روز اک عہد تھا اک مجھ سے تھا پیماں تیرا

    میں نے جب پوچھا تھا کہتے ہیں تجھی کو قاتل

    کس ڈھٹائی سے وہ فرماتے ہیں ہاں ہاں تیرا

    جیسی اب رہتی ہیں غصہ کی نگاہیں ہر وقت

    ایسا ہی مجھ پہ عتاب آگے تھا جاناں تیرا

    ان دنوں کون سے عالم میں ہے اے وحشت دل

    شہر میں اب تو مکاں ہے نہ بیاباں تیرا

    کیا تھی ان زخموں پہ حاجت یہ نمک پاشی کی

    دل ہی میرا کہیں ہوتا جو نمک داں تیرا

    دونوں عالم کی جو نعمت سے ہے دل مستغنی

    دولت فقر بڑا مجھ پہ ہے احساں تیرا

    نالۂ گرم مرا سن کے وہ فرماتے ہیں

    ایسا پھکتا ہے مبارکؔ دل سوزاں تیرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے