تم یہ کیا جانو کہ فرقت میں تھا گریاں کوئی
تم یہ کیا جانو کہ فرقت میں تھا گریاں کوئی
کہتا سنتا بھی تھا کچھ تم سے مری جاں کوئی
پھر ہے ہر زخم جگر پر نمک افشاں کوئی
اب بھرا رہنے نہ پائے گا نمک داں کوئی
بے طرح جوش پہ آتا ہے نظر قلزم اشک
میری آنکھوں نے اٹھایا نہ ہو طوفاں کوئی
خواہش وصل کے جب نام سے تم ہو بےزار
رہنے پائے گا نہ اس دل میں اب ارماں کوئی
وعدہ کرنے کو وہ اک خلق سے جو چاہیں کریں
عہد ہے ان کا نہ سچا ہے نہ پیماں کوئی
کیا دوائے مرض ہجر کسی سے پوچھوں
نظر آتا نہیں اس درد کا درماں کوئی
کیا کسی سے میں کروں بیکسیِ دل کا بیاں
وہ مرا حال ہے جس کا نہیں پرساں کوئی
ہمہ تن داغ نہ کرتی جو تری حسرتِ دید
یوں نہ پھکتا صفت سرو چراغاں کوئی
جیسا تو نے کیا الفت میں بتوں کی اے دل
اس طرح دین لٹائے گا نہ ایماں کوئی
کہتے ہیں دے کے دلِ زار کیا خوب دلیل
سچ ہے اوچھے کا نہ لے بھول کے احساں کوئی
بوسہ لینے پہ دہن کے نہیں بے وجہ سکوت
اس خموشی میں تری راز ہے پنہاں کوئی
آرزو دل کی نہ اک تا دم آخر نکلی
مجھ سا بھی جائے نہ دنیا سے پر ارماں کوئی
جن کی باتوں کے مزے لیتی ہے اب تک مری روح
کیا کہوں ان میں سے زندہ نہیں انساں کوئی
وصل کی ان سے جو کہیے تو وہ فرماتے ہیں کیا
آپ کی مان لے ایسا نہیں ناداں کوئی
اگلے وعدو ں کی اسے یاد نہ دلواؤں گا
اب کہے گا جو دم قول نہیں ہاں کوئی
مجھ کو یاد آتی ہے اس کوچہ محرومی دید
سر ٹپکتا ہے کسی در پہ جب انساں کوئی
حال دل کرتا ہوں شعروں میں مبارکؔ میں نظم
یہ نہیں چاہتا میرا ہو ثنا خواں کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.