Font by Mehr Nastaliq Web

تم یہ کیا جانو کہ فرقت میں تھا گریاں کوئی

مبارک حسین مبارک

تم یہ کیا جانو کہ فرقت میں تھا گریاں کوئی

مبارک حسین مبارک

MORE BYمبارک حسین مبارک

    تم یہ کیا جانو کہ فرقت میں تھا گریاں کوئی

    کہتا سنتا بھی تھا کچھ تم سے مری جاں کوئی

    پھر ہے ہر زخم جگر پر نمک افشاں کوئی

    اب بھرا رہنے نہ پائے گا نمک داں کوئی

    بے طرح جوش پہ آتا ہے نظر قلزم اشک

    میری آنکھوں نے اٹھایا نہ ہو طوفاں کوئی

    خواہش وصل کے جب نام سے تم ہو بےزار

    رہنے پائے گا نہ اس دل میں اب ارماں کوئی

    وعدہ کرنے کو وہ اک خلق سے جو چاہیں کریں

    عہد ہے ان کا نہ سچا ہے نہ پیماں کوئی

    کیا دوائے مرض ہجر کسی سے پوچھوں

    نظر آتا نہیں اس درد کا درماں کوئی

    کیا کسی سے میں کروں بیکسیِ دل کا بیاں

    وہ مرا حال ہے جس کا نہیں پرساں کوئی

    ہمہ تن داغ نہ کرتی جو تری حسرتِ دید

    یوں نہ پھکتا صفت سرو چراغاں کوئی

    جیسا تو نے کیا الفت میں بتوں کی اے دل

    اس طرح دین لٹائے گا نہ ایماں کوئی

    کہتے ہیں دے کے دلِ زار کیا خوب دلیل

    سچ ہے اوچھے کا نہ لے بھول کے احساں کوئی

    بوسہ لینے پہ دہن کے نہیں بے وجہ سکوت

    اس خموشی میں تری راز ہے پنہاں کوئی

    آرزو دل کی نہ اک تا دم آخر نکلی

    مجھ سا بھی جائے نہ دنیا سے پر ارماں کوئی

    جن کی باتوں کے مزے لیتی ہے اب تک مری روح

    کیا کہوں ان میں سے زندہ نہیں انساں کوئی

    وصل کی ان سے جو کہیے تو وہ فرماتے ہیں کیا

    آپ کی مان لے ایسا نہیں ناداں کوئی

    اگلے وعدو ں کی اسے یاد نہ دلواؤں گا

    اب کہے گا جو دم قول نہیں ہاں کوئی

    مجھ کو یاد آتی ہے اس کوچہ محرومی دید

    سر ٹپکتا ہے کسی در پہ جب انساں کوئی

    حال دل کرتا ہوں شعروں میں مبارکؔ میں نظم

    یہ نہیں چاہتا میرا ہو ثنا خواں کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے