جفا و جور نہ کر مجھ پہ ہر زماں صیاد
جفا و جور نہ کر مجھ پہ ہر زماں صیاد
نہیں یہ طرز مداراتِ میہماں صیاد
قفس میں رکھی ہیں مر جھائے پھول لا لا کر
بہار عمریوں ہی ہو تری خزاں صیاد
سنے جونالے مرے دل کو تھام تھام لیا
مگر سمجھنے لگا ہے مری زباں صیاد
نہیں ہے چاک قفس سے بھی جھانکنے کا حکم
بٹھاے رکھتا ہے ہر سو نگاہباں صیاد
مری اسیری کے باعث ہیں زمزمے میرے
ہوئی ہے میرے لیے میرے ہی زباں صیاد
نہ رہنے پائے کسی طرح کا ستم باقی
جو کچھ ہو آج ہی ہو جائے امتحاں صیاد
سلامتی ہے مبارکؔ کمال وحدت میں
بھلا بتائے تو عنقا کا آشیاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.