لب بند ہو تو روزنِ سینہ کو کیا کرو
لب بند ہو تو روزنِ سینہ کو کیا کرو
تھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عیاں نہیں
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
اے جذب شوق رحیم کہ مد نظر ہے یار
جا سکتی واں تلک نگہ ناتواں نہیں
کیا کچھ نہ کر دکھاؤں پر اک دن کے واسطے
ملتا بھی ہم کو منصب ہفت آسماں نہیں
ناز و نگہ روش سبھی لاگو ہیں جان کے
ہے کون ادا وہ تیری کہ جو جانستاں نہیں
شب اس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح
ہیں لب تو کیا نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں
وہ شاخ نخل خشک ہوں میں کنج باغ میں
دیکھے بھی بھول کر بھی جسے باغباں نہیں
ملنا ترا یہ غیر سے ہو بہرِ مصلحت
ہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں
اچھا ہوا نکل گئی آہِ حزیں کے ساتھ
اک قہر تھی بلا تھی قیامت تھی جاں نہیں
بے وقت آئی دیر میں کیا شورشیں کریں
ہم پیر دیر میکدہ بھی نوجواں نہیں
آزردہؔ نے پڑھی غزل اک میکدے میں کل
وہ صاف ترکہ سینۂ پیرِ مغاں نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.