Font by Mehr Nastaliq Web

چمن بلبل و گل ہیں عشقم ہوائیں

محمد آصف نوری

چمن بلبل و گل ہیں عشقم ہوائیں

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    چمن بلبل و گل ہیں عشقم ہوائیں

    سناتی ہیں افسانہ مدھم ہوائیں

    تری یاد میں ہی بھٹکتی ہیں ہر جا

    دسمبر کی سردی میں شبنم ہوائیں

    وہاں کیفیت کا الگ کیف ہوگا

    جو سنگم میں رقصاں ہوں سرگم ہوائیں

    ابھی کچھ دنوں سے ہی رہنے لگی ہیں

    کسی کے خیالوں میں نم نم ہوائیں

    کسی کے لیے وجہِ تسکینِ جاں ہیں

    کسی کے لیے باعثِ غم ہوائیں

    ہواؤں میں ہیں زندگی کی بہاریں

    تلاشیں نہ کیوں ابنِ آدم ہوائیں

    کہاں کوچۂ یار میں سانس رکنا

    'کہاں باغِ عالم کی بیدم ہوائیں'

    وہ اک جھونپڑی جس میں تھیں کتنی جانیں

    اڑا لے گئیں اس کو پیہم ہوائیں

    اگر زندگی میں ہو پہونچانا مشکل

    اڑا کر ہی لے جائیں خاکم ہوائیں

    شبِ انتظارِ کرم تیرے در سے

    امڈ آئیں نا! مثلِ زم زم ہوائیں

    دمِ صبح دیدار چشمِ تمنا

    سرِ شام آصفؔ یوں شادم ہوائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے