ورق ورق کی سیاہی ہے ہر نظر مجھ میں
ورق ورق کی سیاہی ہے ہر نظر مجھ میں
کتابِ دل پہ ہے نقشِ ستم امر مجھ میں
ہیں دور دور منافق مزاج اہلِ کرم
کچھ ایسی خوبیِ وحدت ہے خاص کر مجھ میں
تجھے بھی یاد ہے وہ عہدِ عالمِ ارواح
وہ کائناتِ یقیں ہے تلاش کر مجھ میں
میں کوئی طوطیِ نقار خانہ ہوں جیسے
جہانِ جبر نے چھوڑے نہ بال و پر مجھ میں
کسی کے حال پہ رہتی ہے غم زدہ برسوں
درونِ چشم بھی ہے ایسی چشمِ تر مجھ میں
ہوں جیسے قیس کوئی جستجوئے لیلیٰ میں
میں پھر رہا یوں زمانے سے در بدر مجھ میں
کہ جیسے ہو کوئی ویران جنگلوں کی طرح
نا آشنا سی ہوا ہے یہ شور و شر مجھ میں
نظر تو اہلِ نظر کی ہے بالیقیں مجھ پر
نہیں ہے اہل نظر کی مگر نظر مجھ میں
ہے میری خانہ خرابی سے اک جہاں آباد
بھلائے بیٹھا ہوں میں خود کو بے اثر مجھ میں
ہمیں تو لگتا ہے روتے ہیں زار زار آصفؔ
ہاں غم کسی کا ہے بے ربط عام تر مجھ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.