Font by Mehr Nastaliq Web

ورق ورق کی سیاہی ہے ہر نظر مجھ میں

محمد آصف نوری

ورق ورق کی سیاہی ہے ہر نظر مجھ میں

محمد آصف نوری

MORE BYمحمد آصف نوری

    ورق ورق کی سیاہی ہے ہر نظر مجھ میں

    کتابِ دل پہ ہے نقشِ ستم امر مجھ میں

    ہیں دور دور منافق مزاج اہلِ کرم

    کچھ ایسی خوبیِ وحدت ہے خاص کر مجھ میں

    تجھے بھی یاد ہے وہ عہدِ عالمِ ارواح

    وہ کائناتِ یقیں ہے تلاش کر مجھ میں

    میں کوئی طوطیِ نقار خانہ ہوں جیسے

    جہانِ جبر نے چھوڑے نہ بال و پر مجھ میں

    کسی کے حال پہ رہتی ہے غم زدہ برسوں

    درونِ چشم بھی ہے ایسی چشمِ تر مجھ میں

    ہوں جیسے قیس کوئی جستجوئے لیلیٰ میں

    میں پھر رہا یوں زمانے سے در بدر مجھ میں

    کہ جیسے ہو کوئی ویران جنگلوں کی طرح

    نا آشنا سی ہوا ہے یہ شور و شر مجھ میں

    نظر تو اہلِ نظر کی ہے بالیقیں مجھ پر

    نہیں ہے اہل نظر کی مگر نظر مجھ میں

    ہے میری خانہ خرابی سے اک جہاں آباد

    بھلائے بیٹھا ہوں میں خود کو بے اثر مجھ میں

    ہمیں تو لگتا ہے روتے ہیں زار زار آصفؔ

    ہاں غم کسی کا ہے بے ربط عام تر مجھ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے