ہوتا ہے جو عشق میں کامل
ہوتا ہے جو عشق میں کامل
طے ہوتی ہے اس کی منزل
دوستو! کچھ آسان نہیں ہے
دل مشکل سے بنتا ہے دل
ہو جاتی ہے راہِ طلب میں
مشکل آساں آساں مشکل
سوچ سمجھ کر تھامے دامن
سخت کٹھن ہے عشق کی منزل
ان کی مرضی میں تو فنا ہو
اتنا ہی ہے عشق کا حاصل
اہل نظر سے چھپ نہیں سکتا
کون ہے ناقص کون ہے کامل
صدق سے آئیں راہِ طلب میں
تب جا کر کچھ ہوگا حاصل
طالبِ صادق کو ہو مبارک
ڈھونڈھتی ہے خود اس کو منزل
وہ تو ہے ہر حال میں شاداں
جس نے دیا ان کو اپنا دل
اہلِ محبت کا کیا کہنا
پائے ہوئے ہیں زیست کا حاصل
پوچھیے ان سے کیفِ مسرت
جو ہیں ان کی بزم میں شامل
اللہ اللہ لذتِ طوفاں
کیا سمجھیں گے طالبِ ساحل
ان کی شان کا کیا کہنا ہے
جن کا ہر اک گام ہے منزل
جس کا حال ہے رشک جنگ
اس کا کیا ہوگا مستقبل
دیکھتا ہے اپنے کو احمدؔ
کامل ناقص ناقص کامل
جیسی جس کی طلب ہو احمدؔ
دور بھی ہے نزدیک بھی منزل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.