جو اسرار محبت جانتے ہیں تیرے دیوانے
جو اسرار محبت جانتے ہیں تیرے دیوانے
قیامت تک سمجھ سکتے نہیں وہ راز فرزانے
وہی دستور میخانے کا ہے یا اور کچھ ساقی
اسی طرز کہن سے اب بھی کیا ملتے ہیں پیمانے
کمالِ عشق تو مر مر کے جینا ہے نہ مرجانا
ابھی اس راز سے واقف نہیں ہیں ہائے پروانے
جو گھائل ان کی نظروں کا نہیں میں کیا کہوں اس کو
وہ بیچارہ بھلا دردِ محبت کیا ہے کیا جانے
نگاہوں میں نہیں جچتی ہے اب کونین کی دولت
متاعِ بے بہا بخشا وہ مجھ کو جام و مینا نے
خدا جانے خبر ہے باغباں کو یا نہیں احمدؔ
گلستانِ محبت کے لگے ہیں پھول مرجھانے
- کتاب : irfan-e-mohabbat (Pg. 89)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.