بخشا کسی کو قرب و حضوری
بخشا کسی کو قرب و حضوری
اور کسی کو لذتِ دوری
حاصل ہے اب جانِ حضوری
اللہ رے شانِ مہجوری
خود ہی نہیں احساس حضوری
ورنہ کبھی ان سے نہیں دوری
جس کو ابھی ہے شکوۂ دوری
اس کی محبت ہی ہے ادھوری
قرب کی لذت لوٹنے والو
جانِ محبت ہے غمِ دوری
اہلِ محبت کے مذہب میں
غیبت بھی ہے عین حضوری
دوستو! ہے معراج محبتِ
عشق میں عاشق کی مجبوری
اہلِ خرد سے کون بتائے
کتنا حسیں ہے غم مہجوری
ہوتی نہ یوں تکمیل محبت
اپنی تمنا ہوتی جو پوری
ان کی مرضی پیشِ نظر ہے
کیسی قربت! کیسی دوری!
ان کی طلب ہے مقصد اعظم
اور ہر اک شے غیر ضروری
فرقت و قربت حضرتِ ناصح
عشق میں دونوں ہی ہیں ضروری
اللہ اللہ اللہ اللہ
خاکی بھی ہے اب تو نوری
ہر جلوہ پردہ ہے احمدؔ
قربت ہے اور پھر بھی ہے دوری
- کتاب : irfan-e-mohabbat (Pg. 102)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.