بدلتا ہی نہیں صد حیف کیوں رنگ جہاں ساقی
بدلتا ہی نہیں صد حیف کیوں رنگ جہاں ساقی
یہ آخر ہو گئی کیوں بے اثر آہ و فغاں ساقی
پلا دے ہاں پلا دے وہ شراب ارغواں ساقی
کہ ہر میخوار ہی آئے نظر آتش بہ جاں ساقی
مٹا سکتا نہیں کوئی مرا نام و نشاں ساقی
کرم سے آپ جب خود ہی ہیں میرے پاسباں ساقی
مقام عشق ہے سمجھے گا اس کو راز داں ساقی
میں وہ میخوار ہوں جس کا ہے اب سارا جہاں ساقی
سناتا میں بھلا کیا عشق کی یہ داستاں ساقی
پسِ پردہ کوئی رہتا ہے ہردم نغمہ خواں ساقی
بنایا ہے کسی نے جب سے اپنا راز داں ساقی
رہا باقی نہ پھر کوئی حجاب درمیاں ساقی
کسی کی یاد میں جینا کسی کی یاد میں مرنا
اسی میں ہے نہاں آرامِ دل آرام جاں ساقی
کوئی اس لطف کو احمدؔ سے پوچھے کوئی کیا جانے
کبھی ہے میہماں ساقی کبھی ہے میزباں ساقی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.