Font by Mehr Nastaliq Web

اٹھا ہے اپنے اب آہوں کا وہ دھواں صیاد

محب حسین شیخپوروی

اٹھا ہے اپنے اب آہوں کا وہ دھواں صیاد

محب حسین شیخپوروی

MORE BYمحب حسین شیخپوروی

    اٹھا ہے اپنے اب آہوں کا وہ دھواں صیاد

    بنا ہے ایک نیا سر پہ آسماں صیاد

    کروں جو دل سے میں آہِ شرر فشاں صیاد

    تری زبان سے بھی نکلے الاماں صیاد

    قفس میں اب کوئی دم کا ہوں میہماں صیاد

    لبوں پہ دم ہے میں ہوں لیتا ہچکیاں صیاد

    جگر پہ داغ ہے اور لب پہ مہر خاموشی

    زبان جو کھولوں ابھی حشر ہو عیاں صیاد

    زمیں سے تا بفلک درد و غم کے ہوں آثار

    سناؤں میں جو مصیبت کی داستاں صیاد

    نہ دل پہ تیرے اثر کچھ ہوا ہزار افسوس

    اگر چہ پہونچی فلک تک مری فغاں صیاد

    جہاں تلک ترا جی چاہے ظلم کر مجھ پر

    کھلے گی اپنی نہ ہرگز مگر زباں صیاد

    پھنساہے کون سے پھندے میں کچھ نہیں کھلتا

    محبؔ مرا دل مضطر کہاں کہاں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے