اٹھا ہے اپنے اب آہوں کا وہ دھواں صیاد
اٹھا ہے اپنے اب آہوں کا وہ دھواں صیاد
بنا ہے ایک نیا سر پہ آسماں صیاد
کروں جو دل سے میں آہِ شرر فشاں صیاد
تری زبان سے بھی نکلے الاماں صیاد
قفس میں اب کوئی دم کا ہوں میہماں صیاد
لبوں پہ دم ہے میں ہوں لیتا ہچکیاں صیاد
جگر پہ داغ ہے اور لب پہ مہر خاموشی
زبان جو کھولوں ابھی حشر ہو عیاں صیاد
زمیں سے تا بفلک درد و غم کے ہوں آثار
سناؤں میں جو مصیبت کی داستاں صیاد
نہ دل پہ تیرے اثر کچھ ہوا ہزار افسوس
اگر چہ پہونچی فلک تک مری فغاں صیاد
جہاں تلک ترا جی چاہے ظلم کر مجھ پر
کھلے گی اپنی نہ ہرگز مگر زباں صیاد
پھنساہے کون سے پھندے میں کچھ نہیں کھلتا
محبؔ مرا دل مضطر کہاں کہاں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.