سکہ شہہ بطحیٰ کا ہوا زیبِ نگیں آج
سکہ شہہ بطحیٰ کا ہوا زیبِ نگیں آج
شاہنشہِ قوسین ہے اورنگ نشیں آج
کس شاہ کی آمد ہے سوئے روئے زمیں آج
ہو کر کے نقیب آئے ہیں جبریل امیں آج
آتا ہے کوئی ماہ لقا مہر جبیں آج
روشن جو زمیں ہو گئی تا عرش بریں آج
ہوتا ہے مجھے نغمۂ بلبل سے یقیں آج
رشک گلِ خنداں ہے مدینہ کی زمیں آج
کس ناوکِ مژگاں کا تصور ہے دلوں میں
چلہ میں جو مدہوش ہیں ہر گوشہ نشیں آج
ہو کر خم ابروئے پیمبر سے مشرف
ہے سجدۂ خالق میں ملائک کی جبیں آج
معراج کو آتا ہے چلا نیر اعظم
چمکے گا نصیبا ترا اے عرش بریں آج
ہوں کشتۂ تیغ نگہ سرور عالم
مدفن مرا ہو جائے مدینہ کے قریں آج
پہنچےگا دھرمؔ منزل مقصود پر اپنے
نعت نبوی سے مجھے ہوتا ہے یقیں آج
جب تک نظرِ لطف نہ ہووے گی دھرمؔ پر
چوکھٹ سے تمہارے نہ اٹھائے گا جبیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.