محبت میں بتوں کی صاف ہے جاں کا خطرہ پہلے
محبت میں بتوں کی صاف ہے جاں کا خطرہ پہلے
کہیں ہیں پا سے اس رہ میں قلم کی طرح سر پہلے
نہیں معلوم کس نے بدگماں مجھ سے کیا اس کو
بلاتا تھا مجھے آتا تھا اکثر میرے گھر پہلے
اگر سیمیں بروں کے بزم میں جائے رسائی تو
مثالِ غنچہ دربانوں کو دے یہاں مشتِ زر پہلے
- کتاب : تذکرہ آثار الشعرائے ہنود (Pg. 31)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.