Font by Mehr Nastaliq Web

محبت میں بتوں کی صاف ہے جاں کا خطرہ پہلے

منشی نتھن لال

محبت میں بتوں کی صاف ہے جاں کا خطرہ پہلے

منشی نتھن لال

MORE BYمنشی نتھن لال

    محبت میں بتوں کی صاف ہے جاں کا خطرہ پہلے

    کہیں ہیں پا سے اس رہ میں قلم کی طرح سر پہلے

    نہیں معلوم کس نے بدگماں مجھ سے کیا اس کو

    بلاتا تھا مجھے آتا تھا اکثر میرے گھر پہلے

    اگر سیمیں بروں کے بزم میں جائے رسائی تو

    مثالِ غنچہ دربانوں کو دے یہاں مشتِ زر پہلے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ آثار الشعرائے ہنود (Pg. 31)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے