Font by Mehr Nastaliq Web

منظور یہ نہیں کہ وہ مجھ سے وفا کرے

مشفق گیاوی

منظور یہ نہیں کہ وہ مجھ سے وفا کرے

مشفق گیاوی

MORE BYمشفق گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    منظور یہ نہیں کہ وہ مجھ سے وفا کرے

    بلکہ جہاں تک اس سے ہو جور و جفا کرے

    لبریز جس کے عمر کا پیمانہ ہوگیا

    کیا خاک اثر اسے بھلا آب بقا کرے

    ملتا نہیں نشاں مری لیلیٰ کا یا خدا

    مجنوں سا دشت میں کوئی کب تک پھرا کرے

    جاتا تو ہے وہ گورِ غریباں کی سیر کو

    ایسا نہ ہو کہ فتنۂ محشر بپا کرے

    پھر کون قدرداں بھلا ہوگا آپ کا

    کہتے ہو بار بار کہ مشفقؔ قضا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے