Font by Mehr Nastaliq Web

یہ کہو کہ کل کہاں تھے جو حضور کل نہ آئے

مضطر خیرآبادی

یہ کہو کہ کل کہاں تھے جو حضور کل نہ آئے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    یہ کہو کہ کل کہاں تھے جو حضور کل نہ آئے

    مگر اس طرح سے کہنا کہ جبیں پہ بل نہ آئے

    مجھے جوشش جنوں میں جو خیال ہے تو یہ ہے

    مرا حال زار سن کر وہ کہیں نکل نہ آئے

    ادب اے جنون الفت کہ وہ مجھ سے کہہ رہی ہیں

    مری آبرو بچانا کہیں اس میں بل نہ آئے

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو

    مری جاں مزہ تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    نہ ملی جہاں میں راحت تو دھیان دل میں آیا

    کہ نصیب ہم کسی سے وہیں کیوں بدل نہ آئے

    نہ مرو تم ان پہ مضطرؔ کہ یہ بت ہیں چند روزہ

    تم اسی خدا کو پوجو کہ جسے اجل نہ آئے

    مأخذ :
    • کتاب : Asli Guldasta-e-Qawwali (Pg. 5)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے