یہ کہو کہ کل کہاں تھے جو حضور کل نہ آئے
یہ کہو کہ کل کہاں تھے جو حضور کل نہ آئے
مگر اس طرح سے کہنا کہ جبیں پہ بل نہ آئے
مجھے جوشش جنوں میں جو خیال ہے تو یہ ہے
مرا حال زار سن کر وہ کہیں نکل نہ آئے
ادب اے جنون الفت کہ وہ مجھ سے کہہ رہی ہیں
مری آبرو بچانا کہیں اس میں بل نہ آئے
وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
مری جاں مزہ تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے
نہ ملی جہاں میں راحت تو دھیان دل میں آیا
کہ نصیب ہم کسی سے وہیں کیوں بدل نہ آئے
نہ مرو تم ان پہ مضطرؔ کہ یہ بت ہیں چند روزہ
تم اسی خدا کو پوجو کہ جسے اجل نہ آئے
- کتاب : Asli Guldasta-e-Qawwali (Pg. 5)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.