Font by Mehr Nastaliq Web

زمین سارے دکھوں کی جڑ ہے میں اس کو ایسے نہیں بناتا

نعیم سرمد

زمین سارے دکھوں کی جڑ ہے میں اس کو ایسے نہیں بناتا

نعیم سرمد

MORE BYنعیم سرمد

    زمین سارے دکھوں کی جڑ ہے میں اس کو ایسے نہیں بناتا

    زمین کو آسماں بناتا اور آسماں کو زمیں بناتا

    میں کن کا قائل نہیں ہوں مزدور ہوں زرا دیر تو لگاتا

    مگر میں تیری کیے دھرے سے بہت زیادہ حسیں بتانا

    عجب نہیں ہے کہ آدمی کو یہاں بھی دوزخ وہاں بھی دوزخ

    اگر میں رب کریم ہوتا تو میں جہنم نہیں بناتا

    یہ لوگ جو ہاں کی ضد میں آکر مرے ہیں اور مارے جا رہے ہیں

    اگر کچھ ان کے لیے بناتا تو ان کے منہ پر نہیں بناتا

    او میرے انکار پر بھڑکنے سے باض آ غور کر کہ بدبخت

    تیرا خدا واقعی جو ہوتا تو میرے دل میں یقیں بناتا

    یہ خاک مجھ پر بگڑ رہی تھی، مجھے تو تم سب ہی جانتے ہو

    میں اور زیادہ بگڑ کے بولا نہیں بناتا نہیں بناتا

    وہ ایک سجدہ جو میں نے تیرے لیے اٹھا کر رکھا ہوا ہے

    یقین کر تجھ کو بخش دیتا اگر تو میری جبیں بناتا

    اگر تو ہے تو یہ ذہنی بیمار کیوں بنائے؟ بنائے بھی تو

    میرے ہی سر تو نہ بناتا میری بلا سے کہیں بناتا

    ہمارے ہر فعل کی مذمت کہ اس پہ دوزخ ہے اس پہ جنت

    تجھے جب اس درجہ دقتیں ہیں تو کیوں بنایا نہیں بناتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے