زمین سارے دکھوں کی جڑ ہے میں اس کو ایسے نہیں بناتا
زمین سارے دکھوں کی جڑ ہے میں اس کو ایسے نہیں بناتا
زمین کو آسماں بناتا اور آسماں کو زمیں بناتا
میں کن کا قائل نہیں ہوں مزدور ہوں زرا دیر تو لگاتا
مگر میں تیری کیے دھرے سے بہت زیادہ حسیں بتانا
عجب نہیں ہے کہ آدمی کو یہاں بھی دوزخ وہاں بھی دوزخ
اگر میں رب کریم ہوتا تو میں جہنم نہیں بناتا
یہ لوگ جو ہاں کی ضد میں آکر مرے ہیں اور مارے جا رہے ہیں
اگر کچھ ان کے لیے بناتا تو ان کے منہ پر نہیں بناتا
او میرے انکار پر بھڑکنے سے باض آ غور کر کہ بدبخت
تیرا خدا واقعی جو ہوتا تو میرے دل میں یقیں بناتا
یہ خاک مجھ پر بگڑ رہی تھی، مجھے تو تم سب ہی جانتے ہو
میں اور زیادہ بگڑ کے بولا نہیں بناتا نہیں بناتا
وہ ایک سجدہ جو میں نے تیرے لیے اٹھا کر رکھا ہوا ہے
یقین کر تجھ کو بخش دیتا اگر تو میری جبیں بناتا
اگر تو ہے تو یہ ذہنی بیمار کیوں بنائے؟ بنائے بھی تو
میرے ہی سر تو نہ بناتا میری بلا سے کہیں بناتا
ہمارے ہر فعل کی مذمت کہ اس پہ دوزخ ہے اس پہ جنت
تجھے جب اس درجہ دقتیں ہیں تو کیوں بنایا نہیں بناتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.