ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف
ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف
جان دینے کے لیے ابروئے خمدار پہ حلف
وعدہ وصل کیا اور قسم بھی کھائی
پھر جو کچھ سمجھے تو انکار اور انکار پہ حلف
رات بوسے تو نہ دیتے تھے مگر دیتے تھے
بوسہ بوسہ پہ قسم گریۂ خونبار پہ حلف
آپ کی آنکھوں نے بیمار بنایا ہم کو
ہو اگر شک تو رکھو نرگسِ بیمار پہ حلف
اس میں کیا بس ہے مرا کس لیے دیتے ہو مجھے
گرم نالہ پہ قسم آہِ شرر بار پہ حلف
وعدہ کیا شے ہے وہ خوبی سے اڑا دیتے ہیں
ایک ہی جنبشِ ابروئے ستم کار پہ حلف
اے نعیمؔ آج جو مشہور وفا دشمن ہیں
رکھتے ہیں عہد وفا کا وہ وفادار پہ حلف
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 13)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.