Font by Mehr Nastaliq Web

ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف

نعیم الدین مرادآبادی

ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    ہم اٹھا بیٹھے ہیں اس شوخ کے دیدار پہ حلف

    جان دینے کے لیے ابروئے خمدار پہ حلف

    وعدہ وصل کیا اور قسم بھی کھائی

    پھر جو کچھ سمجھے تو انکار اور انکار پہ حلف

    رات بوسے تو نہ دیتے تھے مگر دیتے تھے

    بوسہ بوسہ پہ قسم گریۂ خونبار پہ حلف

    آپ کی آنکھوں نے بیمار بنایا ہم کو

    ہو اگر شک تو رکھو نرگسِ بیمار پہ حلف

    اس میں کیا بس ہے مرا کس لیے دیتے ہو مجھے

    گرم نالہ پہ قسم آہِ شرر بار پہ حلف

    وعدہ کیا شے ہے وہ خوبی سے اڑا دیتے ہیں

    ایک ہی جنبشِ ابروئے ستم کار پہ حلف

    اے نعیمؔ آج جو مشہور وفا دشمن ہیں

    رکھتے ہیں عہد وفا کا وہ وفادار پہ حلف

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 13)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے