Font by Mehr Nastaliq Web

تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو

نعیم الدین مرادآبادی

تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو

    نہ جاں کو کبھی رنج سے مخلصی ہو

    غم و درد ہو رنج ہو بے کلی ہو

    مرا حال ابتر ہو افسردگی ہو

    مسیحا مرے درد کے چارہ گر ہو

    معالج فلاطون و بقراط گر ہو

    ترقی مرے درد کو دم بہ دم ہو

    سرِ مو بھی تکلیف کوئی نہ کم ہو

    نیا درد ہو دل میں تازہ الم ہو

    لبوں پر ہو فریاد اور چشم نم ہو

    مگر بے قراری فزوں ہوتی جائے

    مری آنکھ بھی اشکِ خوں روتی جائے

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے