تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو
تڑپنے سے دل کو نہ فرصت کبھی ہو
نہ جاں کو کبھی رنج سے مخلصی ہو
غم و درد ہو رنج ہو بے کلی ہو
مرا حال ابتر ہو افسردگی ہو
مسیحا مرے درد کے چارہ گر ہو
معالج فلاطون و بقراط گر ہو
ترقی مرے درد کو دم بہ دم ہو
سرِ مو بھی تکلیف کوئی نہ کم ہو
نیا درد ہو دل میں تازہ الم ہو
لبوں پر ہو فریاد اور چشم نم ہو
مگر بے قراری فزوں ہوتی جائے
مری آنکھ بھی اشکِ خوں روتی جائے
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 27)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.