کوئی ہوگا کئے ہوں گے کسی نے خم کے خم خالی
کوئی ہوگا کئے ہوں گے کسی نے خم کے خم خالی
ہمیں تو کر دیا ساقی نے بیخود ایک ساغر میں
خدا جانے مذاقِ لذتِ آزار کیا شئے ہے
ہر اک زخمِ جگر ابھرا ہوا ہے شوق نشتر میں
جنابِ عشق ہی کی ناخدائی ہے تو اے سیفیؔ
تمنا کا سفینہ غرق ہوگا دیدۂ تر میں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 505)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.