Font by Mehr Nastaliq Web

کوئی ہوگا کئے ہوں گے کسی نے خم کے خم خالی

مکرم علی نقوی

کوئی ہوگا کئے ہوں گے کسی نے خم کے خم خالی

مکرم علی نقوی

MORE BYمکرم علی نقوی

    کوئی ہوگا کئے ہوں گے کسی نے خم کے خم خالی

    ہمیں تو کر دیا ساقی نے بیخود ایک ساغر میں

    خدا جانے مذاقِ لذتِ آزار کیا شئے ہے

    ہر اک زخمِ جگر ابھرا ہوا ہے شوق نشتر میں

    جنابِ عشق ہی کی ناخدائی ہے تو اے سیفیؔ

    تمنا کا سفینہ غرق ہوگا دیدۂ تر میں

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 505)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے