Font by Mehr Nastaliq Web

انسان پہلے ضبط کا کچھ حوصلہ کرے

نشتر بیتھوی

انسان پہلے ضبط کا کچھ حوصلہ کرے

نشتر بیتھوی

MORE BYنشتر بیتھوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    انسان پہلے ضبط کا کچھ حوصلہ کرے

    پھر شوق سے حسینوں پہ دل مبتلا کرے

    جھیلے غم فراق تو یہ تجربہ ہوا

    کانٹے کو بھی گلوں سے نہ کوئی جدا کرے

    سرگوشیاں ہیں چرخ کی بے ڈھب زمین سے

    ڈر ہے نہ میرے حق میں کوئی مشورہ کرے

    پہنچی ہے آج باب اثر تک کسی طرح

    اب پست ہمتی نہ ہماری دعا کرے

    صحت کی اس مرض کے بھلا کیا امید ہو

    پرہیز جس مرض سے ہمیشہ شفا کرے

    میں گرد ہوگیا تو فلک تک پہنچ گیا

    پھر خاک کوئی پست مرا حوصلہ کرے

    مہدی تو لینے آئیں گے وہ میری قبر پر

    مدفوں مجھے کوئی تہہِ نخلِ حنا کرے

    ہے دام شوق صید میں صیاد خود اسیر

    جو آپ ہو پھنسا وہ مجھے قید کیا کرے

    لوٹا خزاں نے آتے ہی فصلِ بہار کو

    پھولا پھلا جہاں میں کوئی آکے کیا کرے

    اے نشرؔ سر اٹھا کے نہ چل اس جہان میں

    انسان ہے وہی جو ہمیشہ جھکا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے