خداوندِ ارض و سما ایک ہے
خداوندِ ارض و سما ایک ہے
قسم ہے خدا کی خدا ایک ہے
برابر ہے اپنا وجود و عدم
ہماری بقا اور فنا ایک ہے
نہ ہوں گے یہ حادث رہے گا قدیم
غرض سب ہیں فانی بقا ایک ہے
جنہیں کفر و الحاد کہتا ہے شیخ
فقط پھیر ہے راستا ایک ہے
مآلِ سخن ذکر ہے یار کا
کہوں سو طرح مدعا ایک ہے
محل فقر کا ہے عجائب مقام
یہاں مسند و بوریا ایک ہے
فضیلت ملی ایک کو ایک پر
غرض ایک سے یاں سوا ایک ہے
بچے گا نہ کاوش سے مژگانِ دل
کہ نشتر بہت آبلا ایک ہے
کہاں اس کے آگے کسی کا فروغ
وہ خورشید رومہ لقا ایک ہے
ہر ایک درد کا ہے مداوا وہ لب
مرض سیکڑوں ہیں دوا ایک ہے
دوئی کو نہ دے دل میں غافل جگہ
زباں ایک ہے اور خدا ایک ہے
کہو گے جو کچھ تو سنو گے بھی رندؔ
ہنسی میں تو شاہ و گدا ایک ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.