شاہ و ولی و خواجۂ دوراں تمہیں تو ہو
شاہ و ولی و خواجۂ دوراں تمہیں تو ہو
رنگِ گلِ حدیقۂ عرفاں تمہیں تو ہو
محشر بپا ہو گر یہ قدم درمیاں نہ ہو
حقا ثباتِ عالم امکاں تمہیں تو ہو
اس واسطے ہے نامِ مبارک معین دیں
تکلیف میں معینِ غریباں تمہیں تو ہو
کیوں کر نہ معرفت کا جہاں کو سبق ملے
ہاں واقفِ حقیقتِ ایماں تمہیں تو ہو
ہوتی نہ ذات پاک تو کشتی یہ غرق تھی
ہاں بادبانِ زورق ایماں تمہیں تو ہو
رستمؔ تمہارا دم نہ بھرے کیوں حباب وار
عرفاں کے بحر کے دُرِ غلطاں تمہیں تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.