Font by Mehr Nastaliq Web

باغ جنت کو دکھائے گی محبت تیری

نواب رستم علی

باغ جنت کو دکھائے گی محبت تیری

نواب رستم علی

MORE BYنواب رستم علی

    باغ جنت کو دکھائے گی محبت تیری

    کھینچ لے جاوے گی دوزخ میں عداوت تیری

    ایسی دے خالقِ عالم مجھے الفت تیری

    دل کے آئینہ میں دیکھا کروں صورت تیری

    منہ محمد کا ہو اور خالقِ عادل کی زباں

    جب کھلے خواجۂ اجمیر حقیقت تیری

    ہوگیا خم وہیں تعظیم کو مصحف کی قسم

    خواب میں بھی نظر آئی ہے جو صورت تیری

    جب خیال آئے تو تیرا ہی خیال آئے مجھے

    جب محبت ہو تو ہو دل میں محبت تیری

    دل مرا خالی ہے تجھ سے نہ زباں خالی ہے

    لب پہ ہے نام ترا دل میں محبت تیری

    ہر بنِ مو سے نکلتا ہے ترا نامِ لطیف

    دل میں گھر کر گئی شاید کہ محبت تیری

    خوب ہی دی ہے طریقت کو حیقت میں جلا

    ساری دنیا سے جدا کیوں نہ ہو ملت تیری

    عرض ہے رستمؔ بے کس کی یہ اے بندہ نواز

    کہ ہر ایک وقت رہے مجھ پہ عنایت تیری

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے