باغ جنت کو دکھائے گی محبت تیری
باغ جنت کو دکھائے گی محبت تیری
کھینچ لے جاوے گی دوزخ میں عداوت تیری
ایسی دے خالقِ عالم مجھے الفت تیری
دل کے آئینہ میں دیکھا کروں صورت تیری
منہ محمد کا ہو اور خالقِ عادل کی زباں
جب کھلے خواجۂ اجمیر حقیقت تیری
ہوگیا خم وہیں تعظیم کو مصحف کی قسم
خواب میں بھی نظر آئی ہے جو صورت تیری
جب خیال آئے تو تیرا ہی خیال آئے مجھے
جب محبت ہو تو ہو دل میں محبت تیری
دل مرا خالی ہے تجھ سے نہ زباں خالی ہے
لب پہ ہے نام ترا دل میں محبت تیری
ہر بنِ مو سے نکلتا ہے ترا نامِ لطیف
دل میں گھر کر گئی شاید کہ محبت تیری
خوب ہی دی ہے طریقت کو حیقت میں جلا
ساری دنیا سے جدا کیوں نہ ہو ملت تیری
عرض ہے رستمؔ بے کس کی یہ اے بندہ نواز
کہ ہر ایک وقت رہے مجھ پہ عنایت تیری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.