روزِ ہجراں کی شکایت شب وصلت نکلی
روزِ ہجراں کی شکایت شب وصلت نکلی
شکر ہے آج مری دل کی یہ حسرت نکلی
وصل ہو جانے پہ بھی کچھ جو نہ حسرت نکلی
اک زمانے سے الگ اپنی طبیعت نکلی
طلبِ یار میں اس دل سے جو الفت نکلی
جی بڑھانے کے لیے ساتھ ہی ہمت نکلی
کسی جانب سے جو اچھی کوئی صورت نکلی
اور تو کیا کہوں قابو سے طبیعت نکلی
شب وعدہ جو خفا ہو کے چلا گھر سے مرے
خون روتی ہوئی آنکھوں سے یہ حسرت نکلی
چشم بینا سے جو دیکھا تو ہوا مجھ پہ عیاں
جلوۂ کثرت میں دکھاتی ہوئی وحدت نکلی
جانے کیا آپ کو کیا ملتا ہے حجت میں مزا
اس گھڑی بھی وہی بےکار کی حجت نکلی
اپنے عاشق کو کیا اس نے جو مجروح ادا
ہر لب زخم سے آواز محبت نکلی
دیکھا جس شے کو نظر جلوۂ جاناں آیا
کیا طبیعت مری مست مے وحدت نکلی
عاشقو دل کا ہمارے ہی خدا ہے حافظ
بے طرح یار میں اب ظلم کی عادت نکلی
چمنِ دہر کا تو خوب تماشا دیکھا
پر کسی گل سے نہ کچھ بوئے محبت نکلی
غیر کی رات منور ہے رخِ جاناں سے
میرے گھر سے نہ کبھی دن کو بھی ظلمت نکلی
تیری رفتار کے فتنوں کا جو کچھ ذکر سنا
شوق پامال میں بیتاب قیامت نکلی
کس قدر معنیٔ لولاک سے ظاہر ہے نظیرؔ
آپ کی ذات ہی تو باعث خلقت نکلی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.