آنکھوں میں تم رہو نہ گزر دوسرا کرے
دلچسپ معلومات
یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔
آنکھوں میں تم رہو نہ گزر دوسرا کرے
آنے کا قصد ساتھ نہ دیکھو حیا کرے
یوں ہی جو ظلم و جور رہے گا حضور کا
اک دن یقیں ہے آپ کا عاشق قضا کرے
رکھا ہے دعوتِ سگِ جاناں کے واسطے
برباد میری ہڈی نہ مرغِ ہما کرے
زلفوں کا بوسہ لوں تو کہتے ہیں غیر سے
کہہ دو کہ پھر نہیں کوئی ایسی خطا کرے
بھڑکا ہوا ہے اس کو اگر شوقِ شاعری
سیفیؔ سے کہہ دو جا کے کہ دیواں پڑھا کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.