Font by Mehr Nastaliq Web

دل نے سمجھا بھی نہیں آنکھ نے دیکھا بھی نہیں

قابل اجمیری

دل نے سمجھا بھی نہیں آنکھ نے دیکھا بھی نہیں

قابل اجمیری

MORE BYقابل اجمیری

    دل نے سمجھا بھی نہیں آنکھ نے دیکھا بھی نہیں

    اور تم ہم سے نہاں ہو نہیں ایسا بھی نہیں

    بدگماں ہو نہ مِری خلوت بے آہ سے دوست

    اور تو اور یہاں تیری تمنا بھی نہیں

    وہی تیور ہی انداز وہی حسن و جمال

    یہ تصور جو حقیقت نہیں دھوکا بھی نہیں

    دم بدم حسن کا اصرار بڑھا جاتا ہے

    اور یہاں جراتِ اظہارِ تمنا بھی نہیں

    حیرتیں کہتی ہیں وہ آکے گئے بھی کب کے

    ذوق نظارہ پشیماں ہے کہ دیکھا بھی نہیں

    کس کڑے وقت میں کافر نے نگاہیں بدلیں

    جب مجھے حوصلۂ ترک تمنا بھی نہیں

    تم نے پیمانِ محبّت تو کیا تھا لیکن

    اب تمہیں یاد نہیں تو مجھے شکوا بھی نہیں

    بات کرنا تو بڑی بات ہے ان سے قابلؔ

    ہوش میں آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے