دل نے سمجھا بھی نہیں آنکھ نے دیکھا بھی نہیں
دل نے سمجھا بھی نہیں آنکھ نے دیکھا بھی نہیں
اور تم ہم سے نہاں ہو نہیں ایسا بھی نہیں
بدگماں ہو نہ مِری خلوت بے آہ سے دوست
اور تو اور یہاں تیری تمنا بھی نہیں
وہی تیور ہی انداز وہی حسن و جمال
یہ تصور جو حقیقت نہیں دھوکا بھی نہیں
دم بدم حسن کا اصرار بڑھا جاتا ہے
اور یہاں جراتِ اظہارِ تمنا بھی نہیں
حیرتیں کہتی ہیں وہ آکے گئے بھی کب کے
ذوق نظارہ پشیماں ہے کہ دیکھا بھی نہیں
کس کڑے وقت میں کافر نے نگاہیں بدلیں
جب مجھے حوصلۂ ترک تمنا بھی نہیں
تم نے پیمانِ محبّت تو کیا تھا لیکن
اب تمہیں یاد نہیں تو مجھے شکوا بھی نہیں
بات کرنا تو بڑی بات ہے ان سے قابلؔ
ہوش میں آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.