ہم پیر میکدہ کی قیادت میں آ گئے
ہم پیر میکدہ کی قیادت میں آ گئے
ایمان کھو کے مقصدِ ایمان پا گئے
جلوے کسی کے دیدۂ تر میں سما گئے
اشکِ رواں کو گوہرِ غلطاں بنا گئے
ہاں ہوشیار حسن فسوں کار ہو شیار
دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے
ساغر چھوا بھی ہو تو مرے ہاتھ ٹوٹ جائیں
ناصح میں کیا کروں وہ نظر سے پلا گئے
چہرہ اداس طبع حزیں زلف منتشر
کیا میری زندگی کے تمہیں خواب آ گئے
ان کا خیال آیا کہ وہ آئے کیا خبر
آنے کو کہہ گئے تھے بہر حال آ گئے
ذوقِ تصورات کو قابلؔ خدا رکھے
اکثر تو وہ بغیر بلائے بھی آ گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.