Font by Mehr Nastaliq Web

میرا کلب ہمیشہ یہی پھولا پھلا کرے

قیس گیاوی

میرا کلب ہمیشہ یہی پھولا پھلا کرے

قیس گیاوی

MORE BYقیس گیاوی

    میرا کلب ہمیشہ یہی پھولا پھلا کرے

    ہو کوئی فصل یہ تر و تازہ رہا کرے

    انسان کس زبان سے تیری ثنا کرے

    ایک مشتِ خاک حمدِ خدا کیا ادا کرے

    کب کہتے ہیں یہ ہم کوئی ہم سے وفا کرے

    ہم سب میں خوش ہیں کوئی وفا یا جفا کرے

    مجھ سے مریضِ غم کی کوئی کیا دوا کرے

    ہاں وہ دوا کرے جو کوئی معجزہ کرے

    لیلیٰ وشوں کے غم میں یہ کب تک گھلا کرے

    آٹھ آٹھ آنسو قیس نہ روئے تو کیا کرے

    نیرنگیوں میں یہ ترا شاگرد ہے اگر

    ہر روز چرخ ایک کرشمہ نیا کرے

    تم پر نثار ہم ہوں نہ ہو دل تمہارا صاف

    تم یوں بھی خوش نہ ہو تو کوئی مر کے کیا کرے

    لوں تو جہاں میں ہیں بہت غیرتِ مسیح

    میرا مسیح وہ ہے جو میری دوا کرے

    یہ ہے مرض علاج یہاں معرکہ کا ہے

    جس کو مسیح بننا ہو میری دوا کرے

    ہو جس کے پاس مال زکوٰۃ اس پہ فرض ہے

    جو مالدار حسن ہو بوسے دیا کرے

    ہم تو دم ان کا بھرتے ہیں یہ غیروں پہ نثار

    ان بے وفاؤں پر کوئی دل کیوں فدا کرے

    تسبیح ہاتھ میں یہ دعا ہے زبان پر

    آ جائے میرے گھر میں وہ کافر خدا کرے

    دو دن کی زندگی میں عداوت کسی سے کیا

    یہ دن ہنسی خوشی میں بسر ہوں خدا کرے

    نام اس قلم کا خامۂ جادو نگار ہے

    مضمون جو تیری چشم سیہ کا لکھا کرے

    میں نے کہا جو ان سے کہ مرتا ہوں آپ پر

    بولے یہ مسکرا کے مرو تم خدا کرے

    اب قیسؔ کو بنا دیا کچھ اور عشق نے

    لیلیٰ بھی اس کے نام کی سمرن جپا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے