Font by Mehr Nastaliq Web

گر عزم سیر باغ کا وہ مہ لقا کرے

قیصر گیاوی

گر عزم سیر باغ کا وہ مہ لقا کرے

قیصر گیاوی

MORE BYقیصر گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    گر عزم سیر باغ کا وہ مہ لقا کرے

    اک ایک قدم پہ سیکڑوں محشر بپا کرے

    آئے وہ گھر میرے کہیں وہ دن خدا کرے

    بھولے سے بھی تو اپنا وہ وعدہ وفا کرے

    خط میں لکھا ہے وصل کو لیکن یہ ڈر بھی ہے

    قاصد کا سر نہ تن سے وہ یا رب جدا کرے

    دیکھے میرے صنم کی جو تصویر واعظا

    حوروں کا بھول کر نہ کبھی تذکرہ کرے

    قیصرؔ کو اب بلائیے روضہ پہ یا نبی

    صدمہ فراقِ ہند میں کب تک سہا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے