Font by Mehr Nastaliq Web

مدت گزر گئی ہے مگر بھولتی نہیں

قیصرالجعفری

مدت گزر گئی ہے مگر بھولتی نہیں

قیصرالجعفری

MORE BYقیصرالجعفری

    مدت گزر گئی ہے مگر بھولتی نہیں

    چھوٹی سی ایک بات جو اب یاد بھی نہیں

    آوارہ پھر کے دیکھ لیا رات رات بھر

    اس کی گلی کے بعد کہیں روشنی نہیں

    آنکھوں میں چبھ رہا ہے ترے ہجر کا دھواں

    یہ آگ کب لگی تھی ابھی تک بجھی نہیں

    ایسے بھنور میں چھوڑ کے تم بھی چلے گئے

    پھر زندگی کی ناؤ کنارے لگی نہیں

    لے جائے گی تمام اجالے سمیٹ کے

    کس کے چراغ ہیں یہ ہوا پوچھتی نہیں

    اک فیصلے پہ آؤ کہ کچھ بات تو بنے

    یہ کوئی بات ہے کہ کبھی ہاں کبھی نہیں

    قیصؔر کبھی وہ آئیں تو دل کی یہ دھڑکنیں

    ایسی غزل سنائیں جو اب تک لکھی نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے