مدت گزر گئی ہے مگر بھولتی نہیں
مدت گزر گئی ہے مگر بھولتی نہیں
چھوٹی سی ایک بات جو اب یاد بھی نہیں
آوارہ پھر کے دیکھ لیا رات رات بھر
اس کی گلی کے بعد کہیں روشنی نہیں
آنکھوں میں چبھ رہا ہے ترے ہجر کا دھواں
یہ آگ کب لگی تھی ابھی تک بجھی نہیں
ایسے بھنور میں چھوڑ کے تم بھی چلے گئے
پھر زندگی کی ناؤ کنارے لگی نہیں
لے جائے گی تمام اجالے سمیٹ کے
کس کے چراغ ہیں یہ ہوا پوچھتی نہیں
اک فیصلے پہ آؤ کہ کچھ بات تو بنے
یہ کوئی بات ہے کہ کبھی ہاں کبھی نہیں
قیصؔر کبھی وہ آئیں تو دل کی یہ دھڑکنیں
ایسی غزل سنائیں جو اب تک لکھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.